Sunday, December 27, 2020

سندھ میں 500 سرکاری ملازمین پلی بارگین کے بعد عہدوں پر برقرار

 

  صاف لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ یہ لٹیرے پکڑے جانے پر ہڑپ شدہ رقم کا کچھ حصہ واپس کرکے ’’ستی ساوتری‘‘ ہوگئے ہیں اور حکومت نے کمال مہربانی کرتے ہوئے ان کے سابقہ گناہوں سے صرف نظر کرتے ہوئے انہیں اپنے عہدوں پر کام کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بدعنوان‘ کرپٹ‘ راشی افسر بھی اتنی بڑی تعداد میں جن پر جرم ثابت ہوئے اور بعد میں انہیں برطرف نہیں کیا گیا‘ نااہل قرار نہیں دیا گیا۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا۔ کیا حکومت سندھ اس بات سے بے خبر ہے۔ کیا پیپلزپارٹی کے یہ پالتو کارندے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو اتنے عزیز ہیںکہ وہ ان کی طرف سے آنکھیں بند رکھے ہوئے ہیں۔ اگر سائیں قائم علی شاہ کی حکومت ہوتی تو لوگ اسے ان کی بھول چوک قرار دیتے۔ ان کے بارے میں (معذرت کے ساتھ) لطیفہ مشہور ہے کہ وہ تو پارٹی کے حکم پر استعفیٰ جمع کرانے نیشنل بنک صدر کراچی پہنچ گئے تھے کہ استعفیٰ جمع کرا سکیں۔ مگر مراد علی شاہ تو جوان دکھتے ہیں۔ انہیں بلاول اور آصف زرداری کے ساتھ فریال تالپور کی بھی حمایت حاصل ہے۔ وہ اتنے کمزور اور مصلحت پسند کیوں ہو رہے ہیں۔ بہت ہو چکا۔ اسے تو بھٹو اور بینظیر والی پیپلزپارٹی کو بدنام اور تباہ کرنے کی سازش ہی کہا جائے گا۔ بینظیر اور بھٹو کے ناموں کی ہی لاج رکھتے ہوئے اب پلی بار گین کے مرتکب سرکاری ملازمین کو جلد از جلد فارغ کرکے سندھ حکومت کچھ نیک نامی کمائے۔

Post a Comment

مشہورموضوعات

...
آپکی پسند کےمطابق چیزیں

Whatsapp Button works on Mobile Device only